حدیث نمبر: 1847
ابوعبداللہ آصف

´سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( صادق المصدوق ) سچے ہیں اور سچے کئے گئے ہیں ( فرمایا کہ ) بیشک تم میں سے ہر ایک آدمی کا نطفہ اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن جمع رہتا ہے ، پھر چالیس دن جمے ہوئے خون کی شکل میں رہتا ہے ، پھر چالیس دن میں گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتے کو بھیجتا ہے ، وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور اس کو چار باتوں کا حکم ہوتا ہے ۔ ایک تو اس کی روزی لکھنا ( یعنی محتاج ہو گا یا مالدار ) ، دوسرے اس کی عمر لکھنا ( کہ کتنا جئے زندہ رہے گا ) ، اور تیسرے اس کا عمل لکھنا ( کہ کیا کیا کرے گا ) اور یہ لکھنا کہ نیک بخت ( جنتی ) ہو گا یا بدبخت ( جہنمی ) ہو گا ۔ پس میں قسم کھاتا ہوں اس کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کہ بیشک تم لوگوں میں سے کوئی اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اس میں اور بہشت میں بالشت بھر کا فاصلہ رہ جاتا ہے ( یعنی بہت قریب ہو جاتا ہے ) پھر تقدیر کا لکھا اس پر غالب ہو جاتا ہے ، پس وہ دوزخیوں کے کام کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں چلا جاتا ہے ۔ اور کوئی آدمی عمر بھر دوزخیوں کے کام کیا کرتا ہے ، یہاں تک کہ دوزخ میں اور اس میں سوائے ایک ہاتھ بھر کے کچھ فرق نہیں رہتا کہ تقدیر کا لکھا اس پر غالب ہوتا ہے ، پس وہ بہشتیوں کے کام کرنے لگتا ہے اور پھر بہشت میں چلا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 1847