حدیث نمبر: 1631
ابوعبداللہ آصف

´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میں سویا ہوا تھا ، میں نے اپنے آپ کو ایک کنوئیں پر دیکھا کہ اس پر ڈول پڑا ہوا ہے ۔ پس میں نے اس ڈول سے پانی کھینچا جتنا کہ اللہ نے چاہا ۔ پھر اس کو ابوقحافہ کے بیٹے یعنی صدیق اکبر نے لیا اور ایک یا دو ڈول نکالے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اللہ تعالیٰ ان کو بخشے ۔ پھر وہ ڈول پل یعنی بڑا ڈول ہو گیا اور اس کو عمر بن خطاب نے لیا ، تو میں نے لوگوں میں ایسا سردار شہ زور نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کھینچتا ہو ۔ انہوں نے اس کثرت سے پانی نکالا کہ لوگ اپنے اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے آرام کی جگہ لے گئے ۔ ( علماء نے بیان کیا ہے کہ اس خواب میں آپ کے بعد ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کی تمثیل و بشارت اور حالات کی پیشن گوئی ہے ) ۔

حوالہ حدیث مختصر صحيح مسلم / حدیث: 1631