مختصر صحيح مسلم
— نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض ، اس کی وسعت و عظمت اور آپ کی امت کے حوض پر آنے کے متعلق ۔
´سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اپنے حوض کے کنارے پر لوگوں کو ہٹاتا ہوں گا یمن والوں کے لئے ۔ میں اپنی لکڑی سے ماروں گا ، یہاں تک کہ یمن والوں پر اس کا پانی بہہ آئے گا ( اس سے یمن والوں کی بڑی فضیلت نکلی ۔ انہوں نے دنیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی اور دشمنوں سے بچایا ، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آخرت میں ان کی مدد کریں گے اور سب سے پہلے حوض کوثر سے وہ پئیں گے ) ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اس حوض کا عرض کتنا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جیسے یہاں سے عمان ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اس کا پانی کیسا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ۔ دو پرنالے اس میں پانی چھوڑتے ہیں ، جن کو جنت سے پانی کی مدد ہوتی ہے ایک پرنالہ سونے کا ہے اور ایک چاندی کا ۔