مختصر صحيح مسلم
— ایمان کے متعلق
باب: جو شخص اللہ تعالیٰ کو ایمان کے ساتھ ملا اور اس کو کسی قسم کا شک نہیں وہ جنت میں داخل ہو گا ۔
´سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں سواری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پیچھے بیٹھا ہوا تھا ، میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان سوائے پالان کی پچھلی لکڑی کے کچھ نہ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ بن جبل ! میں نے عرض کیا کہ میں حاضر ہوں آپ کی خدمت میں اور آپ کا فرمانبردار ہوں یا رسول اللہ ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلے اس کے بعد فرمایا کہ اے معاذ بن جبل ! میں نے کہا یا رسول اللہ ! فرمانبردار آپ کی خدمت میں حاضر ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلے اس کے بعد فرمایا کہ اے معاذ بن جبل ! میں نے کہا یا رسول اللہ ! فرمانبردار آپ کی خدمت میں حاضر ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو جانتا ہے اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے ؟ میں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ پھر آپ تھوڑی دیر چلے پھر فرمایا کہ اے معاذ بن جبل ! میں نے کہا یا رسول اللہ ! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ کا فرمانبردار ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو جانتا ہے کہ جب بندے یہ کام کریں تو ان کا اللہ پر کیا حق ہے ؟ جب بندے یہ کام کریں ( یعنی اسی کی عبادت کریں ، کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کریں ) میں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ حق یہ ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ کرے ۔