مختصر صحيح مسلم
— ہجرت اور غزوات بیان میں
باب: حدیبیہ کا واقعہ اور قریش سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح کا بیان ۔
حدیث نمبر: 1179
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب یہ آیت نازل ہوئی کہ ( ( انّا فتحنا لک فتحاً .... ) ) ( الفتح : 5-1 ) آخر تک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے لوٹ کر آ رہے تھے اور صحابہ کو بہت غم اور رنج تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں قربانی کے جانوروں کو ذبح و نحر کر دیا تھا ( کیونکہ کافروں نے مکہ میں آنے نہ دیا ) ، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے اوپر ایک آیت اتری ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ پسند ہے ۔