حدیث نمبر: 2144
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس وقت ) کعبہ کے سایہ میں ( بیٹھے ) فرما رہے تھے : ” رب کعبہ کی قسم ! وہ لوگ بہت ہی نقصان میں ہیں ، رب کعبہ کی قسم ہے کہ وہ لوگ بہت ہی نقصان میں ہیں ، قسم ہے رب کعبہ کی میں نے ( یہ خیال کیا کہ شاید حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو فرما رہے ہیں ) عرض کی کہ میں نے کیا کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کون سا ایسا کام دیکھا ؟ اور پھر میں بیٹھ گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی فرماتے رہے اور میں خاموش نہ رہ سکا اور اللہ ہی جانتا ہے جو رنج و غم ( اس وقت ) مجھ پر طاری تھا ۔ میں نے پھر عرض کی کہ وہ کون لوگ ہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زیادہ مال والے ، مگر وہ لوگ جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ( یعنی آگے اور دائیں اور بائیں اللہ کے راستے میں ) خرچ کریں اور وہ ایسے نہیں ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 2145
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آپ مجھ کو سوائے میری جان کے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں اے عمر ! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب تک کہ میں تیری جان سے بھی تجھ کو زیادہ پیارا نہ ہوں گا ( تب تک تیرا ایمان کامل نہ ہو گا ) ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ بیشک اب آپ مجھ کو میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عمر ! اب تمہارا ایمان کامل ہوا ۔ “