حدیث نمبر: 1801
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خطبہ میں پیغمبر صالح علیہ السلام کی ) اونٹنی کا جس نے اسے قتل کیا تھا اس کا ذکر فرمایا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” جب ان میں سے ایک نہایت بدبخت اٹھا “ ( الشمس : 12 ) کی تفسیر یہ فرمائی کہ اس اونٹنی کو ( قتل کرنے کا ذمہ ) ایک ایسے شخص نے اٹھایا جو ابوزمعہ ( رضی اللہ عنہ ) کی طرح اپنی قول میں زبردست قوی تھا اور وہ شخص بڑا خبیث اور بدبخت تھا ۔ “ پھر عورتوں کا ذکر فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے کہ اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح کوڑے سے مارے اور پھر شام کو ہی اس سے ہمبستر ہو ۔ “ پھر لوگوں کو گوز لگانے ( ہوا خارج کرنے ) پر ہنسنے کی ممانعت فرمائی اور فرمایا : ” ایسے کام پر جو خود بھی کرتے ہیں ، لوگ کیوں ہنستے ہیں ؟ “ ایک دوسری روایت میں یوں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( وہ شخص ) زبیر بن عوام کے چچا ابوزمعہ کی طرح تھا ۔ “