کتب حدیث ›
مختصر صحيح بخاري › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کے قول ” قسم ہے طور ( پہاڑ ) کی اور لکھی ہوئی کتاب کی “ ( سورۃ الطور : 1 , 2 ) کے بیان میں ۔
حدیث نمبر: 1782
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھتے سنا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت : ” کیا یہ لوگ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہو گئے ہیں یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں ؟ کیا انھوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ ( نہیں ) بلکہ یہ لوگ یقین ہی نہیں رکھتے ۔ یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں یا یہ ( ان خزانوں کے ) داروغہ ہیں ( جس کو چاہیں دیں یا نہ دیں ) “ ( سورۃ الطور : 35 -37 ) پر پہنچے تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے یعنی پھٹ کر نکل جائے ۔