کتب حدیث ›
مختصر صحيح بخاري › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کا قول ” اے مومنو ! تم نبی کے گھروں میں ( بن بلائے ) مت جایا کرو “ ( سورۃ الاحزاب : 53 ) ۔
حدیث نمبر: 1763
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` پردہ کا حکم اترنے کے بعد ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا ( چادر وغیرہ اوڑھ کر ) حاجت کے لیے باہر نکلیں ، وہ بھاری جسامت کی عورت تھیں ، جو کوئی انھیں پہلے سے پہچانتا ہوتا وہ اب بھی پہچان لیتا تھا ۔ خیر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ لیا اور کہا کہ اے سودہ ! واللہ ! تم تو اب بھی ہم سے چھپی ہوئی نہیں ہو ، ذرا دیکھ لو کیسی حالت میں تم باہر نکلی ہو ۔ یہ سن کر وہ لوٹ آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں رات کا کھانا کھا رہے تھے اور ہاتھ میں ہڈی تھی ۔ پس وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ ! میں ضرورت سے باہر نکلی تھی لیکن عمر ( رضی اللہ عنہ ) نے ایسی ایسی گفتگو کی ( ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ) کہتی ہیں کہ اسی وقت وحی آنا شروع ہوئی ، پھر وحی کی حالت موقوف ہو گئی اور ہڈی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ہاتھ سے رکھا نہیں تھا ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک تم ( عورتوں ) کو ضرورت سے ( کام کاج کے لیے ) باہر نکلنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ “