کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: ( ( باب ) )
حدیث نمبر: 1712
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا ، میں اسی وقت حاضر نہ ہوا ( بلکہ نماز پڑھ کر گیا ) اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! میں نماز پڑھ رہا تھا ( اس وجہ سے دیر ہوئی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا اللہ نے یہ نہیں کہا کہ ” تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ ، جب کہ رسول تم کو اس حیات بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں ۔ ‘ ( الانفال : 24 ) پھر مجھ سے فرمایا : ” مسجد سے باہر جانے سے پہلے میں تجھے قرآن کی ایک ایسی سورت بتاؤں گا جو ( اجر و ثواب میں ) ساری سورتوں سے بڑھ کر ہے ۔ “ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ۔ جب باہر آنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض نے کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ میں تم کو ایک سورت بتلاؤں گا جو قرآن کی سب سورتوں سے بڑھ کر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ سورۃ ( الحمدللہ رب العالمین ) ہے ، اس میں سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں باربار دہرائی جاتی ہیں اور یہی سورۃ وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1712