حدیث نمبر: 1681
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کی حدیث اس بیان میں کہ` ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تو مجھے ذی الخلصہ سے آرام نہ دے گا ؟ “ پہلے گزر چکی ہے ( دیکھئیے کتاب جہاد اور جنگی حالات کے بیان میں ۔ ۔ ۔ باب : گھروں اور باغوں کا جلا دینا ) اس روایت میں سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ذی الخلصہ یمن میں قوم خثعم اور بجیلہ کا ایک مکان ( بت خانہ ) تھا ، جس میں بت رکھے تھے ، جن کی عبادت کی جاتی ۔ ( راوی نے ) کہا کہ جب سیدنا جریر رضی اللہ عنہ یمن میں پہنچے تو وہاں ایک شخص تھا جو تیروں سے فال کھولتا تھا ۔ کسی نے اس سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد یہاں پر ( موجود ) ہے ، اگر اس کے تو ہتھے چڑھ گیا تو وہ تیری گردن اڑا دے گا ۔ ( راوی نے ) کہا کہ اتفاقاً ایک دن وہ فال نکال رہا تھا کہ اس کے پاس سیدنا جریر رضی اللہ عنہ پہنچ گئے اور کہا کہ انھیں توڑ کر کلمہ شہادت ” لا الہٰ الا اللہ “ پڑھ لے ورنہ میں تیری گردن اڑا دوں گا ۔ راوی کہتا ہے کہ اس شخص نے انھیں توڑ کر کلمہ شہادت پڑھ لیا ۔