کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: سیدنا عبداللہ بن حذافہ سہمی اور سیدنا علقمہ بن مجز زمد لجی رضی اللہ عنہما کے سریہ کا بیان اور اسی کو سریہ انصار بھی کہا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 1675
ابوعبداللہ آصف
´امیرالمؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا حاکم ایک انصاری کو بنایا اور سب کو اس کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا ۔ ( راستے میں ) اسے غصہ آیا تو کہنے لگا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں میری فرمانبرداری کرنے کا حکم نہیں دیا ؟ وہ بولے کہ ہاں ضرور دیا ہے ۔ وہ انصاری بولا کہ تم میرے لیے لکڑیاں جمع کرو ۔ انھوں نے جمع کیں ، پھر کہا کہ آگ سلگاؤ ، انھوں نے آگ سلگائی ، پھر اس نے کہا کہ تم سب اس میں کود جاؤ ۔ انھوں نے گھسنے کا ارادہ کیا اور بعض ایک دوسرے کو روکنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم آگ ( دوزخ ) سے تو بھاگ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ہیں ( اب اس میں کیونکر جل جائیں ؟ ) یونہی سب جھگڑتے رہے کہ اس عرصہ میں آگ بجھ گئی اور اس ( انصاری ) کا غصہ جاتا رہا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو فرمایا : ” اگر وہ اس آگ میں چلے جاتے تو قیامت تک اس میں سے نہ نکلتے کیونکر اطاعت کرنا اچھے کاموں میں لازم ہے ( گناہ کے کام میں امام کی فرمانبرداری ضروری نہیں ) ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1675