کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: سید الشہداء حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان ۔
حدیث نمبر: 1623
ابوعبداللہ آصف
´عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انھوں نے وحشی سے کہا کیا تم ہمیں قتل ( شہادت ) حمزہ رضی اللہ عنہ کی خبر نہیں بتاؤ گے ؟ اس نے کہا ہاں ( کیوں نہ بتاؤں گا ۔ قتل حمزہ رضی اللہ عنہ کا قصہ یوں ہے ) کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے بدر کے دن طعیمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا ، مجھ سے میرے آقا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے کہا اگر تو میرے چچا کے عوض حمزہ رضی اللہ عنہ کو مار ڈالے تو ، تو آزاد ہے ۔ وحشی نے کہا کہ جب قریش کے لوگ کوہ عنیین کی لڑائی کے سال نکلے اور عنیین احد کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے ۔ احد کے اور اس کے درمیان ایک نالہ ہے ۔ اس وقت میں بھی لڑنے والوں کے ساتھ نکلا جب لوگ لڑائی کی صفیں باندھ چکے ، تو سباع ( بن عبدالعزیٰ ) نے ( صف سے ) نکل کر کہا کہ کیا کوئی لڑنے والا ہے ؟ وحشی کہتے ہیں کہ سیدالشہداء حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اس کے مقابل نکل کر کہا اے سباع ! اے ام انمار کے بیٹے ! جو عورتوں کا ختنہ کرتی تھی ، کیا تو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتا ہے ؟ وحشی نے کہا پھر انھوں نے سباع پر حملہ کیا اور سباع گزشتہ کل کی طرح مٹ گیا ۔ وحشی نے کہا پھر میں قتل حمزہ رضی اللہ عنہ کے واسطے ایک پتھر کی آڑ میں گھات لگا کر بیٹھ گیا ۔ جب وہ میرے قریب آئے تو میں نے اپنا ہتھیار پھینک مارا ، وہ ان کو زیر ناف اس طرح لگا کہ وہ ان کے دونوں سرین کے پار ہو گیا ۔ وحشی نے کہا کہ یہی ان کا آخری وقت تھا ۔ جب سب قریش مکہ میں واپس آئے تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آ کر مکہ میں مقیم ہو گیا ۔ جب ( فتح مکہ کے بعد ) مکہ میں بھی اسلام پھیل گیا تو میں طائف چلا گیا ۔ جب طائف والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قاصد بھیجے تو مجھ سے کہا کہ وہ قاصدوں کو نہیں ستاتے ۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے دیکھا تو فرمایا : ” کیا وحشی تو ہی ہے ؟ “ میں نے عرض کی جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حمزہ رضی اللہ عنہ کو تو نے ہی شہید کیا تھا ؟ “ میں نے عرض کی جی ہاں ، جو کچھ آپ سے لوگوں نے بیان کیا ، وہی ماجرا ہے ( یعنی میں نے اپنے آقا کے حکم سے مارا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو مجھ سے اپنا منہ چھپا سکتا ہے ؟ وحشی کہتے ہیں کہ میں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر ) باہر آ گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب مسیلمہ کذاب نے خروج ( یعنی دعویٰ نبوت ) کیا تو میں نے سوچا کہ میں بھی مسلمانوں کے پاس چلوں ، شاید مسیلمہ کو مار کر حمزہ رضی اللہ عنہ کا بدلہ اتار سکوں ۔ وحشی نے کہا کہ میں ( ان ) لوگوں کے ساتھ ( جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روانہ کیے تھے ) نکلا اور مسیلمہ کا حال جو تھا سو تھا ( یعنی اس کے ساتھ ایک بڑی جماعت تھی ) وحشی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہی میں نے دیکھا کہ مسیلمہ ایک دیوار کے شگاف میں کھڑا ہے ، گویا کہ خاکستری رنگ کا اونٹ ہے اور پریشان سر ہے ۔ میں نے وہی حربہ ( جس سے حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا ) اس کی چھاتی کے درمیان مارا اور اس کے دونوں کندھوں کے آرپار کر دیا پھر مسیلمہ کی طرف ایک انصاری نے دوڑ کر اس کی کھوپڑی پر تلوار مار دی ( یعنی گردن جدا کر دی ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1623