کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: جاہلیت کی سی باتیں کرنا منع ہے ۔
حدیث نمبر: 1467
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مہاجرین میں سے بہت لوگ جمع ہو گئے تھے ۔ ان مہاجرین میں ایک آدمی بڑا دل لگی باز تھا ، اس نے ایک انصاری کے سرین پر ضرب لگائی ۔ انصاری بہت سخت غصے ہوا اور اس نے اپنی ذات والوں کو پکارا ، انصاری نے کہا اے انصار ! دوڑو ( میری فریاد سنو ) ۔ مہاجر نے کہا کہ اے مہاجرین ! دوڑو ۔ یہ ( غل ) سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمہ سے نکل کر آئے اور فرمایا : ” یہ جاہلیت کی سی باتیں کیسی ؟ “ پھر پوچھا کہ قصہ کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا کہ ایک مہاجر نے انصاری کے سرین پر ضرب لگائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسی جہالت کی ناپاک باتیں چھوڑ دو ۔ “ اور عبداللہ بن ابی ابن سلول ( منافق ) نے کہا کہ مہاجر ہمارے اوپر اپنی قوم والوں کو پکارتے ہیں ، پس جب ہم مدینہ پہنیں گے تو یقیناً عزت دار ذلیل کو ( مدینہ سے ) نکال باہر کرے گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کیا میں اس ناپاک ( شخص ) کا سر نہ اڑا دوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ! لوگ کہیں گے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1467