کتب حدیث ›
مختصر صحيح بخاري › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کا قول ” اور ہم نے داؤد کو سلیمان ( نامی فرزند ) عطا فرمایا جو بڑا اچھا بندہ تھا اور بےحد رجوع کرنے والا تھا “ ( سورۃ ص : 30 ) ۔
حدیث نمبر: 1428
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ سلگائی ، اب پتنگے اور جانور اس میں گرنے لگے ۔ “ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دو عورتیں تھیں ہر ایک کے پاس ایک لڑکا تھا ، بھیڑیا آیا اور ایک کا بچہ اٹھا کر لے گیا تو اس کے ساتھ والی کہنے لگی کہ تیرا بچہ بھیڑیا لے گیا ہے ( یہ میرا بچہ ہے ) دوسری کہنے لگی کہ ( نہیں بلکہ ) تیرا بچہ لے کر گیا ہے ۔ دونوں فیصلہ کروانے کے لیے داؤد علیہ السلام کے پاس آئیں تو انھوں نے بڑی عورت کو بچہ دلا دیا ( کیونکہ اسی کے قبضے میں تھا اور دوسری کوئی گواہ نہ لا سکی ) پھر دونوں سلیمان علیہ السلام کے پاس گئیں اور ان سے بیان کیا تو انھوں نے کہا کہ چھری لاؤ ۔ میں اس بچے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو دے دیتا ہوں ۔ یہ سن کر چھوٹی عورت بولی کہ اللہ تجھ پر رحم کرے ایسا نہ کرو کیونکہ وہ اسی ( بڑی عورت ) کا بچہ ہے ۔ پھر انھوں نے وہ بچہ چھوٹی عورت کو دلا دیا ۔ ( وہ پہچان گئے کہ یہی بچے کی اصل ماں ہے اور دوسری جھوٹی ہے ) ۔