کتب حدیث ›
مختصر صحيح بخاري › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اور انھیں ابراہیم ( علیہ السلام ) کے مہمانوں کا ( بھی ) حال سنا دو “ ( حجر ) اور ” جب ابراہیم ( علیہ السلام ) نے کہا کہ اے میرے پروردگار ! مجھے دکھا تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے .... “ ( سورۃ البقرہ ) ۔
حدیث نمبر: 1419
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( ابراہیم علیہ السلام نے جو سوال کیا وہ شک کی وجہ سے نہ تھا ، اگر ان کو شک ہوتا تو ) ہمیں ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک ہونا چاہیے تھا جب انھوں نے کہا کہ ” اے میرے رب ! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا : ” کیا تمہیں ایمان ( یقین ) نہیں ؟ جواب دیا کہ ایمان ( یقین ) تو ہے لیکن میرے دل کی تسلی ہو جائے گی “ ( جو آنکھ سے دیکھ کر ہوتی ہے ) اور اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے وہ زبردست رکن ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید خانے میں رہتا جتنی مدت یوسف علیہ السلام رہے تو میں ( آزادی دینے کے لیے ) بلانے والے کے پاس فوراً چلا جاتا ۔ “