کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: مشرکوں سے مال وغیرہ پر صلح کرنا ، لڑائی چھوڑ دینا ( جائز ہے ) اور اس شخص کا گناہ بہت سخت ہے جو عہد کو پورا نہ کرے ۔
حدیث نمبر: 1343
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید خیبر گئے اور ان دنوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہودیوں کی صلح تھی ۔ پھر وہ دونوں ( کسی ضرورت سے ) جدا ہو گئے تو پھر محیصہ جو عبداللہ بن سہل کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ اپنے خون میں لت پت ہے ، کسی نے اس کو قتل کر ڈالا خیر محیصہ نے اس کو دفن کیا پھر مدینہ میں آئے ۔ عبدالرحمن بن سہل ( عبداللہ بن سہل ) مقتول کے بھائی اور محیصہ اور ان کے بھائی حویصہ جو مسعود کے بیٹے تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ۔ عبدالرحمن نے گفتگو شروع کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : ” بڑے کو بولنے دو ، بڑے کو بات کرنے دو ۔ “ عبدالرحمن تینوں میں کم سن تھے ، یہ سن کر وہ خاموش ہو گئے ، تب محیصہ اور حویصہ نے گفتگو کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کیا چاہتے ہو ؟ “ یا تو قسم کھاؤ کہ عبداﷲ کو فلاں شخص نے مارا ہے اور قاتل پر اپنا حق ثابت کر لو ۔ انھوں نے عرض کی کہ ہم کیونکر قسم کھائیں ؟ ہم نے تو آنکھ سے نہیں دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر اپنی برات کر لیں گے ۔ “ انھوں نے عرض کی کہ وہ تو کافر ہیں ، ہم ان کی قسموں پر کیسے اعتبار کریں ؟ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن کی دیت اپنے پاس سے ادا کر دی ۔ ( رضی اللہ عنہ )
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1343