کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: مکاتب میں کون سی شرطیں کرنا درست ہیں ؟
حدیث نمبر: 1150
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ` بریرہ ( رضی اللہ عنہا ) ان کے پاس اپنی کتابت ( غلام یا لونڈی پر وہ رقم جو اسے آزاد ہونے کے لیے ادا کرنا پڑتی ہے ) میں ان سے مدد لینے آئیں اور ( اس وقت تک ) انھوں نے اپنی کتابت میں سے کچھ بھی ادا نہ کیا تھا تو میں نے ان سے کہا کہ تم اپنے مالک کے پاس لوٹ جاؤ ، اگر وہ چاہیں کہ میں تمہاری کتابت کا روپیہ تمہاری طرف سے ادا کر دوں اور تمہاری ولاء ( حق وارثت ) مجھے ملے تو میں ادا کر دوں گی ۔ پس بریرہ ( رضی اللہ عنہا ) نے اس کا ذکر اپنے مالک سے کیا ، انھوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر وہ ثواب کی خواہش رکھتی ہوں تو اس طرح کریں کہ ولاء تمہاری ہم ہی کو ملے گی ۔ پس ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : ” تم خرید لو اور آزاد کر دو ، ولاء تو اسی کو ملے گی جو آزاد کرے گا ۔ “ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا : ” ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں ؟ یاد رکھو ! جو شخص ایسی شرط لگائے گا جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہے تو وہ شرط اس کے لیے نافذ نہ ہو گی اگرچہ وہ سو مرتبہ شرط لگائے ، اللہ تعالیٰ کی شرط بہت سچی اور مضبوط ہے ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1150