کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: جب کوئی شخص اپنے غلام کو آزاد کرنے کی نیت سے یوں کہے کہ : ” وہ اللہ کے لیے ہے “ تو وہ آزاد ہو جائے گا اور آزاد کرنے میں گواہ بنانا ( ضروری ہے ؟ ) ۔
حدیث نمبر: 1143
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ جب اسلام لانے کے ارادے سے آنے لگے اور ان کا غلام ان کے ہمراہ تھا ( تو وہ راستے میں ) ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ۔ اس کے بعد وہ غلام ایسے وقت لوٹ کر آیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابوہریرہ ! یہ تمہارا غلام تمہارے پاس آ گیا ۔ “ پس انھوں نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناتا ہوں کہ یہ غلام آزاد ہے ۔ راوی ( قیس ) کہتے ہیں کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے : ہے پیاری ، گو کٹھن ہے اور لمبی میری رات ۔ ۔ ۔ پر دلائی اس نے دارالکفر سے مجھ کو نجات
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1143