کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: جب کوئی شخص کسی میت کے ذمہ قرض کو دوسرے ( زندہ ) کے حوالے کر دے تو جائز ہے ۔
حدیث نمبر: 1061
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ( ایک دن ) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے عرض کی کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا اس پر کچھ قرض ہے ؟ “ لوگوں نے عرض کی کہ نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا اس نے کچھ مال چھوڑا ہے ؟ “ لوگوں نے عرض کی کہ نہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی ۔ اس کے بعد ایک دوسرا جنازہ لایا گیا ۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! اس کی بھی نماز جنازہ پڑھا دیجئیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا اس پر کچھ قرض ہے ؟ “ عرض کی گئی کہ ہاں تین اشرفیاں ہیں ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز پڑھا دی ۔ پھر تیسرا جنازہ لیا گیا اور لوگوں نے عرض کی کہ اس کی بھی نماز جنازہ پڑھا دیجئیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا اس نے کچھ مال چھوڑا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا اس پر کچھ قرض ہے ؟ “ لوگوں نے عرض کی کہ ہاں ! تین اشرفیاں قرض ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اپنے دوست کی نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھوں گا ) ۔ “ تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز پڑھا دیجئیے اس کا قرض میں ادا کروں گا ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1061