کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: سورج گرہن میں نماز ( پڑھنے کا بیان ) ۔
حدیث نمبر: 561
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ`  ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ سورج گرہن ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ( جلدی میں ) اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے مسجد میں گئے ۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہوئے ۔ پھر ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ۔ یہاں تک کہ آفتاب روشن ہو گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آفتاب اور ماہتاب کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن میں نہیں آتے ہیں اور جب یہ کیفیت دیکھا کرو تو نماز پڑھا کرو اور دعا کیا کرو ، یہاں تک کہ وہ حالت جاتی رہے ۔ “ ایک اور روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لیکن ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے ۔ “ حدیث گرہن کئی بار بیان کی گئی ہے ، اسی طرح کی ایک حدیث میں سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا ، جس دن کہ سیدنا ابراہیم ( فرزند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی وفات ہوئی تو لوگوں نے کہا کہ سیدنا ابراہیم کی وفات کے سبب سے سورج گرہن ہوا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سورج اور چاند نہ کسی کے مرنے سے گرہن میں آتے ہیں اور نہ کسی کے جینے سے لہٰذا جب تم ( گرہن کو ) دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 561