حدیث نمبر: 214
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجتہ الوداع میں احرام باندھا ، میں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے ( حج ) تمتع ( کا ارادہ ) کیا تھا اور قربانی کا جانور اپنے ہمراہ نہ لائے تھے ۔ پھر انھوں نے کہا کہ وہ حائضہ ہو گئیں اور شب عرفہ تک پاک نہ ہوئیں ، تب انھوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! یہ عرفہ کے دن کی رات ہے اور میں نے عمرہ کے ساتھ تمتع کیا تھا تو رسول اللہ نے ان سے فرمایا : ” تم اپنا سر ( احرام ) کھول دو اور کنگھی کرو اور اپنے عمرہ سے رکی رہو ( اور حج کر لو ) ۔ “ چنانچہ میں نے ( ایسا ہی ) کیا پس جب میں حج کر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن ( بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ) کو حصبہ کی رات میں حکم دیا اور وہ میرے اس عمرہ کے بدلے جس کا میں نے احرام باندھا تھا ، لیکن کیا نہیں تھا ، مجھے تنعیم سے عمرہ کروا لائے ۔