کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: حائضہ عورت کا ( فرض ) روزے چھوڑ دینا ۔
حدیث نمبر: 210
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی یا عیدالفطر کے دن نکلے اور ( عیدگاہ میں ) عورتوں ( کی جماعت ) پر گزرے تو آپ نے فرمایا : ” اے عورتو ! صدقہ دیا کرو اس لیے کہ میں نے تمہیں ( معراج میں ) زیادہ دوزخ میں دیکھا ہے ۔ “ وہ بولیں کہ یا رسول اللہ ! یہ کیوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لعن طعن کثرت سے کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو اور میں نے تم سے زیادہ کسی کو باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے ، پختہ رائے مرد کی عقل کا ( اڑا ) لیجانے والا نہیں دیکھا ۔ “ عورتوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہمارے دین میں اور ہماری عقل میں کیا نقصان ( کمی ) ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت کی گواہی ( شرعاً ) مرد کی گواہی کے نصف کے برابر نہیں ہے ؟ “ انھوں نے کہا ہاں ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” یہی اس کی عقل کا نقصان ہے ۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہوتی ہے نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے ؟ “ انھوں نے کہا ہاں ۔ آپ نے فرمایا : ” پس یہی اس کے دین کا نقصان ہے ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 210