کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: خون کا دھو ڈالنا ( کافی ہے ) ۔
حدیث نمبر: 170
ابوعبداللہ آصف
´سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا کہ بتائیے ہم میں سے کسی کو کپڑے میں حیض آئے تو وہ ( اسے ) کیا کرے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اسے کھرچ ڈالے ، پھر اسے پانی ڈال کر رگڑے اور اسے ( مزید ) پانی سے دھو ڈالے اور اسی میں نماز پڑھ لے ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 170
حدیث نمبر: 171
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` فاطمہ بنت ابی حبیش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا کہ یا رسول اللہ ! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ ( اکثر ) مستحاضہ رہتی ہوں پھر ( بہت دنوں تک ) پاک نہیں ہو پاتی ، کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ! یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے اور حیض نہیں ہے ، پس جب تمہارے حیض کا زمانہ آ جائے تو نماز چھوڑ دو اور جب گزر جائے تو خون اپنے ( جسم ) سے دھو ڈالو ، اس کے بعد نماز پڑھو ۔ پھر ہر نماز کے لیے وضو کیا کرو یہاں تک کہ پھر وقت ( حیض کا ) آ جائے ( تو پھر نماز ترک کر دینا ) ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 171