حدیث نمبر: 148
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نماز کا وقت آیا تو جس شخص کا گھر وہاں سے قریب تھا وہ ( وضو کرنے اپنے گھر ) چلا گیا اور چند لوگ رہ گئے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پتھر کا ایک مخضب ( ظرف ) لایا گیا جس میں پانی تھا اور مخضب میں یہ گنجائش نہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہتھیلی اس میں پھیلا سکیں ۔ پس تمام لوگوں نے ( اسی تھوڑے سے پانی سے ) وضو کیا ۔ ( راوی حمید کہتے ہیں ) ہم نے ( انس رضی اللہ عنہ سے ) پوچھا کہ تم لوگ ( اس وقت ) کس قدر تھے ؟ انھوں نے کہا کہ اسی اور ( بلکہ اسی سے ) کچھ زیادہ ہی تھے ۔
حدیث نمبر: 149
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قدح ( پیالہ ) منگوایا جس میں پانی تھا ، پھر اسی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرہ انور کو دھویا اور اسی میں کلی کی ۔
حدیث نمبر: 150
ابوعبداللہ آصف
´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( آخری مرض میں بیماری سے ) بوجھل ہو گئے اور آپ کا مرض سخت ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت مانگی کہ میرے ( عائشہ کے ) گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمارداری کی جائے تو سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( میرے گھر آنے کے لیے ) دو آدمیوں کے درمیان ( سہارا لے کر ) نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں ( مبارک ) زمین پر گھسٹتے ہوئے جا رہے تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ایک اور شخص ( حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ) نکلے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں آ چکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض ( اور بھی ) زیادہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سات مشکیں جن کے بند نہ کھولے گئے ہوں میرے اوپر ڈال دو تاکہ میں لوگوں کو کچھ وصیت کروں ( چنانچہ اس کی تعمیل کی گئی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخضب میں بٹھا دیے گئے ۔ اس کے بعد ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر پانی ڈالنے لگے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ ( بس اب تم تعمیل حکم ) کر چکیں ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس باہر تشریف لے گئے ۔