کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: جس نے وضو کو ( فرض ) نہیں خیال کیا مگر صرف دونوں مخرج یعنی قبل اور دبر سے ( نکلنے والی چیز کے سبب ) ۔
حدیث نمبر: 138
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ برابر نماز میں ( شمار ہوتا ) ہے جب تک کہ مسجد میں نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے تاوقتیکہ بےوضو نہ ہو جائے ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 138
حدیث نمبر: 139
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے امیرالمؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ` بتلائیے اگر ( کوئی شخص ) جماع کرے اور انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے ؟ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا جس طرح نماز کے لیے وضو کرتا ہے وضو کر لے اور اپنی شرمگاہ کو دھو ڈالے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ ( سیدنا زید رضی اللہ عنہ راوی حدیث کہتے ہیں کہ ) پھر میں نے یہ مسئلہ علی ، زبیر ، طلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انھوں نے ( بھی ) اس شخص کو یہی حکم دیا ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 139
حدیث نمبر: 140
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کے پاس ( بلانے کو ) کوئی آدمی بھیجا تو وہ آئے ، اس حال میں کہ ان کے سر سے ( غسل کا ) پانی ٹپک رہا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شاید ہم نے تمہیں ( بلانے میں ) جلدی کی ؟ “ انھوں نے عرض کی کہ ہاں یا رسول اللہ ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب جلدی کی جائے یا ( اور کسی سبب سے ) انزال نہ ہو تو تمہارے اوپر وضو ( فرض ) ہے ( غسل فرض نہیں ) ۔ “ ( لیکن یہ حکم منسوخ ہے ) ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 140