کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: وضو بہ کمال و تمام ( اعضاء کا پورا دھونا ) ۔
حدیث نمبر: 114
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے چلے یہاں تک کہ جب گھاٹی میں پہنچے تو اترے اور پیشاب کیا پھر وضو کیا ، مگر وضو پورا نہیں کیا ۔ تو میں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! نماز ( کا وقت قریب آ گیا ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز تمہارے آگے ہے ( یعنی مزدلفہ میں پڑھیں گے ) ۔ “ پھر جب مزدلفہ آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور پورا وضو کیا پھر نماز کی اقامت کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی ( پڑھائی ) اس کے بعد ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے مقام پر بٹھا دیا پھر عشاء کی نماز کی اقامت کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز ) پڑھی ( پڑھائی ) اور دونوں کے درمیان میں کوئی ( نفل ) نماز نہیں پڑھی ۔
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 114