کتب حدیث ›
مختصر صحيح بخاري › ابواب
› باب: خمس ( مال غنیمت کے پانچویں حصہ ) کا ادا کرنا ایمان میں سے ہے ۔
حدیث نمبر: 49
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` عبدالقیس ( قبیلہ عبدالقیس ) کے لوگ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ( ان سے ) فرمایا کہ : یہ کون سی قوم یا ( یہ پوچھا کہ ) کون سی جماعت ہے ؟ وہ بولے کہ ( ہم ) ربیعہ ( کے خاندان ) سے ( ہیں ) آپ نے فرمایا : قوم یا وفد کا آنا مبارک ہو ، تم ذلیل ہو گے نہ شرمسار ۔ پھر ان لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہم سوا ماہ حرام کے ( کسی اور وقت میں ) آپ کے پاس نہیں آ سکتے ( اس لیے کہ ) ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کفار کا قبیلہ مضر رہتا ہے ( ان سے ہمیں اندیشہ ہے ) لہٰذا آپ ہمیں کوئی ٹھوس بات ( خلاصہ احکام ) بتا دیجئیے کہ ہم اپنے پیچھے والوں کو ( بھی ) اس کی اطلاع کر دیں اور ہم سب اس ( پر عمل کرنے ) سے جنت میں داخل ہو جائیں اور ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پینے کی چیزوں کی بابت ( بھی ) پوچھا کہ ( کون سی حلال ہیں اور کون سی حرام ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار باتوں سے منع کیا ۔ ( 1 ) ان کو حکم دیا صرف اللہ پر ایمان لانے کا ( یہ کہہ کر ) فرمایا : تم لوگ جانتے ہو کہ صرف اللہ پر ایمان لانا ( کس طرح پر ہوتا ) ہے ؟ تو انھوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) خوب واقف ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود ( حقیقی ) نہیں اور یہ کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں ۔ ( ان کو حکم دیا ) نماز پڑھنے کا ۔ زکوٰۃ دینے کا ۔ رمضان کے روزے رکھنے کا اور ( حکم دیا ) اس بات کا کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ ( بیت المال میں ) دے دیا کرو اور چار چیزوں ( یعنی چار قسم کے برتنوں میں پانی یا اور کوئی چیز پینے ) سے منع کیا ۔ ( 1 ) سبز لاکھی مرتبان سے ( 2 ) کدو کے تونبے سے ( 3 ) کریدے ہوئے لکڑی کے برتن ( 4 ) روغنی برتن سے اور کبھی ( سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مزفت کی جگہ ) مقیر کہا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان باتوں کو یاد کر لو اور اپنے پیچھے والوں کو اس کی تبلیغ کر دو ۔ “