حدیث نمبر: 34
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے جو اس کی راہ میں ( جہاد کرنے کو ) نکلے اور اس کو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور اس کے پیغمبروں پر ایقان ہی نے ( جہاد پر آمادہ کر کے گھر سے ) نکالا ہو ، اس امر کا ذمہ دار ہو گیا ہے کہ یا تو میں ( یعنی اللہ ) اسے اس ثواب اور ( مال ) غنیمت کے ساتھ واپس کروں گا جو اس نے جہاد میں پایا ہے یا اسے ( شہید بنا کر ) جنت میں داخل کر دوں گا ۔ اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو ( کبھی ) کسی سریہ ( یعنی جس جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک نہ تھے ) سے بھی پیچھے نہ رہتا اور میں ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) یقیناً اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر مارا جاؤں ۔ “