کتب حدیثمختصر صحيح بخاريابوابباب: اہل ایمان کا اعمال میں باہم ایک دوسرے سے برتر ہونا ( ثابت ہے ) ۔
حدیث نمبر: 21
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( روایت کرتے ہیں ) کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( جب ) جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہو چکے ہوں گے تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ ( فرشتوں سے ) فرمائے گا کہ جس کے دل میں رائی کے دانے برابر ( بھی ) ایمان ہو ، اس کو ( دوزخ سے نکال لو ۔ پس وہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور وہ ( جل کر ) سیاہ ہو چکے ہوں گے ۔ پھر وہ نہر حیاء ( برسات ) یا ( نہر ) حیات میں ڈالے جائیں گے “ یہ شک کے الفاظ امام مالک کے ہیں ۔ ( جو حدیث کے ایک راوی ہیں ) ” تب وہ تروتازہ ہو جائیں گے جس طرح دانہ ( تروتازگی کے ساتھ ) پانی کی روانی کی جانب اگتا ہے ( اے شخص ! ) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ زرد باہم لپٹا ہوا نکلتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 21
حدیث نمبر: 22
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس حالت میں کہ میں سو رہا تھا اور میں نے ( یہ خواب ) دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور ان ( کے بدن ) پر کرتے ہیں ۔ بعضے کرتے تو ( صرف ) چھاتیوں ( ہی ) تک ہیں اور بعضے ان سے نیچے ہیں اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( بھی ) میرے سامنے پیش کیے گئے اور ان ( کے بدن ) پر ( جو ) قمیض ہے ( وہ اتنی نیچی ہے ) کہ وہ اس کو کھینچتے ( ہوئے چلتے ) ہیں ۔ “ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( قمیض کی تعبیر میں نے ) دین ( لی ) ہے ۔ “
حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 22