فہرستِ ابواب — مختصر صحيح بخاري

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ( ہے ) کہ اسلام ( کا محل ) پانچ ( ستونوں ) پر بنایا گیا ہے ۔

حدیث 8–8

باب: ایمان کے کاموں کا بیان ۔

حدیث 9–9

باب: ( اس بیان میں کہ پکا ) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے ( دوسرے ) مسلمان ایذا نہ پائیں ۔

حدیث 10–10

باب: ( اس بیان میں کہ ) کون سا اسلام افضل ہے ؟

حدیث 11–11

باب: ( کسی کو ) کھانا کھلانا اسلام میں سے ہے ۔

حدیث 12–12

باب: اپنے بھائی ( مسلمان ) کے لیے وہی بات چاہنا جو اپنے لیے چاہے ( یہ ) ایمان میں سے ہے ۔

حدیث 13–13

باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا ایمان میں سے ہے ۔

حدیث 14–15

باب: ایمان کی شیرینی ( کا ذکر ) ۔

حدیث 16–16

باب: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے ۔

حدیث 17–18

باب: فتنوں سے بھاگنا دین کی بات ہے ۔

حدیث 19–19

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ( ہے ) کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا ہوں ۔

حدیث 20–20

باب: اہل ایمان کا اعمال میں باہم ایک دوسرے سے برتر ہونا ( ثابت ہے ) ۔

حدیث 21–22

باب: حیاء ( بھی ) ایمان سے ہے ۔

حدیث 23–23

باب: ( اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ) ” اگر ( کفار شرک سے ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ( تم ) ان ( کے قتل ) کی سبیل ترک کر دو “ ( سورۃ التوبہ : 5 ) ۔

حدیث 24–24

باب: جس نے کہا کہ ایمان عمل ( کا نام ) ہے ۔

حدیث 25–25

باب: جب اسلام سے اس کے حقیقی ( شرعی ) معنی مراد نہ ہوں ( بلکہ ظاہری فرمانبرداری یا جان کے خوف سے مان لینا مراد ہو ) ۔

حدیث 26–26

باب: شوہر کی ناشکری ( بھی کفر ہے ) لیکن کفر کفر میں فرق ہوتا ہے ۔

حدیث 27–27

باب: گناہ جاہلیت کے کام ہیں اور ان کا کرنے والا ( صرف ) ان کے ارتکاب سے ، بغیر شرک ( کرنے ) کے ، کافر قرار نہیں دیا جائے گا ۔

حدیث 28–28

باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ” اگر مسلمانوں کے دو گروہ باہم لڑیں تو ان دونوں کے درمیان صلح کروا دو ۔ ( سورۃ الحجرات : 9 ) ۔

حدیث 29–29

باب: ایک ظلم دوسرے ظلم سے کم ( زیادہ ہوتا ) ہے ۔

حدیث 30–30

باب: منافق کی پہچان ( کیا ہے ) ؟

حدیث 31–32

باب: شب قدر میں قیام ( عبادت ) کرنا ایمان میں سے ہے ۔

حدیث 33–33

باب: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ایمان میں سے ہے ۔

حدیث 34–34

باب: ماہ رمضان میں نوافل ( یعنی تراویح پڑھنا ) ایمان میں سے ہے ۔

حدیث 35–35

باب: ثواب جان کر ماہ رمضان کے روزے رکھنا ایمان میں سے ہے ۔

حدیث 36–36

باب: اسلام بہت آسان دین ہے ۔

حدیث 37–37

باب: نماز ( قائم کرنا ) ایمان میں سے ہے ۔

حدیث 38–38

باب: آدمی کے اسلام کی خوبی ( کا کیا نتیجہ ہوتا ہے ؟ ) ۔

حدیث 39–39

باب: اللہ کو زیادہ محبوب وہ دین ( کا کام ) ہے جو ہمیشہ جاری رہے ۔

حدیث 40–40

باب: ایمان کا زیادہ اور کم ہونا ( ثابت ہے ) ۔

حدیث 41–42

باب: زکوٰۃ ادا کرنا اسلام میں سے ہے ۔

حدیث 43–43

باب: جنازوں کے پیچھے چل کر جانا ایمان میں سے ہے ۔

حدیث 44–44

باب: مومن کا اس بات سے ڈرنا کہ کہیں اس کی بےخبری میں اس کا عمل اکارت ( ضائع ) نہ ہو جائے ۔

حدیث 45–46

باب: جبرائیل علیہ السلام کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان ، اسلام ، احسان اور علم قیامت کی بابت پوچھنا ۔

حدیث 47–47

باب: اس شخص کی فضیلت ( کا بیان ) جو اپنے دین کی خاطر ( مشتبہ چیزوں سے ) علیحدہ ہو جائے ۔

حدیث 48–48

باب: خمس ( مال غنیمت کے پانچویں حصہ ) کا ادا کرنا ایمان میں سے ہے ۔

حدیث 49–49

باب: ( حدیث میں ) آیا ہے کہ اعمال ( کی قبولیت ) نیت پر ( موقوف ) ہے ۔

حدیث 50–51

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ دین خیرخواہی ( کا نام ) ہے ۔

حدیث 52–53

اس باب کی تمام احادیث