کتب حدیث › مختصر صحيح بخاري › ابواب ❮کتاب:صحيح البخاريصحيح مسلمسنن ابي داودسنن ابن ماجهسنن نسائيسنن ترمذيصحيح ابن خزيمهصحیح ابن حبانمسند احمدموطا امام مالك رواية يحييٰموطا امام مالك رواية ابن القاسمسنن دارميسنن الدارقطنيسنن سعید بن منصورمصنف ابن ابي شيبهالمنتقى ابن الجارودالادب المفردصحيح الادب المفردمشكوة المصابيحبلوغ المراماللؤلؤ والمرجانشمائل ترمذيصحيفه همام بن منبهسلسله احاديث صحيحهمجموعه ضعيف احاديثمختصر صحيح بخاريمختصر صحيح مسلممختصر حصن المسلممسند الإمام الشافعيمسند الحميديمسند اسحاق بن راهويهمسند عبدالله بن مباركمسند الشهابمسند عبدالرحمن بن عوفمسند عبدالله بن عمرمسند عمر بن عبد العزيزالفتح الربانیمعجم صغير للطبرانيحدیث نمبر:جائیں❯ فہرستِ ابواب — مختصر صحيح بخاري باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ( ہے ) کہ اسلام ( کا محل ) پانچ ( ستونوں ) پر بنایا گیا ہے ۔ حدیث 8–8 باب: ایمان کے کاموں کا بیان ۔ حدیث 9–9 باب: ( اس بیان میں کہ پکا ) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے ( دوسرے ) مسلمان ایذا نہ پائیں ۔ حدیث 10–10 باب: ( اس بیان میں کہ ) کون سا اسلام افضل ہے ؟ حدیث 11–11 باب: ( کسی کو ) کھانا کھلانا اسلام میں سے ہے ۔ حدیث 12–12 باب: اپنے بھائی ( مسلمان ) کے لیے وہی بات چاہنا جو اپنے لیے چاہے ( یہ ) ایمان میں سے ہے ۔ حدیث 13–13 باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا ایمان میں سے ہے ۔ حدیث 14–15 باب: ایمان کی شیرینی ( کا ذکر ) ۔ حدیث 16–16 باب: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے ۔ حدیث 17–18 باب: فتنوں سے بھاگنا دین کی بات ہے ۔ حدیث 19–19 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ( ہے ) کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا ہوں ۔ حدیث 20–20 باب: اہل ایمان کا اعمال میں باہم ایک دوسرے سے برتر ہونا ( ثابت ہے ) ۔ حدیث 21–22 باب: حیاء ( بھی ) ایمان سے ہے ۔ حدیث 23–23 باب: ( اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ) ” اگر ( کفار شرک سے ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ( تم ) ان ( کے قتل ) کی سبیل ترک کر دو “ ( سورۃ التوبہ : 5 ) ۔ حدیث 24–24 باب: جس نے کہا کہ ایمان عمل ( کا نام ) ہے ۔ حدیث 25–25 باب: جب اسلام سے اس کے حقیقی ( شرعی ) معنی مراد نہ ہوں ( بلکہ ظاہری فرمانبرداری یا جان کے خوف سے مان لینا مراد ہو ) ۔ حدیث 26–26 باب: شوہر کی ناشکری ( بھی کفر ہے ) لیکن کفر کفر میں فرق ہوتا ہے ۔ حدیث 27–27 باب: گناہ جاہلیت کے کام ہیں اور ان کا کرنے والا ( صرف ) ان کے ارتکاب سے ، بغیر شرک ( کرنے ) کے ، کافر قرار نہیں دیا جائے گا ۔ حدیث 28–28 باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ” اگر مسلمانوں کے دو گروہ باہم لڑیں تو ان دونوں کے درمیان صلح کروا دو ۔ ( سورۃ الحجرات : 9 ) ۔ حدیث 29–29 باب: ایک ظلم دوسرے ظلم سے کم ( زیادہ ہوتا ) ہے ۔ حدیث 30–30 باب: منافق کی پہچان ( کیا ہے ) ؟ حدیث 31–32 باب: شب قدر میں قیام ( عبادت ) کرنا ایمان میں سے ہے ۔ حدیث 33–33 باب: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ایمان میں سے ہے ۔ حدیث 34–34 باب: ماہ رمضان میں نوافل ( یعنی تراویح پڑھنا ) ایمان میں سے ہے ۔ حدیث 35–35 باب: ثواب جان کر ماہ رمضان کے روزے رکھنا ایمان میں سے ہے ۔ حدیث 36–36 باب: اسلام بہت آسان دین ہے ۔ حدیث 37–37 باب: نماز ( قائم کرنا ) ایمان میں سے ہے ۔ حدیث 38–38 باب: آدمی کے اسلام کی خوبی ( کا کیا نتیجہ ہوتا ہے ؟ ) ۔ حدیث 39–39 باب: اللہ کو زیادہ محبوب وہ دین ( کا کام ) ہے جو ہمیشہ جاری رہے ۔ حدیث 40–40 باب: ایمان کا زیادہ اور کم ہونا ( ثابت ہے ) ۔ حدیث 41–42 باب: زکوٰۃ ادا کرنا اسلام میں سے ہے ۔ حدیث 43–43 باب: جنازوں کے پیچھے چل کر جانا ایمان میں سے ہے ۔ حدیث 44–44 باب: مومن کا اس بات سے ڈرنا کہ کہیں اس کی بےخبری میں اس کا عمل اکارت ( ضائع ) نہ ہو جائے ۔ حدیث 45–46 باب: جبرائیل علیہ السلام کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان ، اسلام ، احسان اور علم قیامت کی بابت پوچھنا ۔ حدیث 47–47 باب: اس شخص کی فضیلت ( کا بیان ) جو اپنے دین کی خاطر ( مشتبہ چیزوں سے ) علیحدہ ہو جائے ۔ حدیث 48–48 باب: خمس ( مال غنیمت کے پانچویں حصہ ) کا ادا کرنا ایمان میں سے ہے ۔ حدیث 49–49 باب: ( حدیث میں ) آیا ہے کہ اعمال ( کی قبولیت ) نیت پر ( موقوف ) ہے ۔ حدیث 50–51 باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ دین خیرخواہی ( کا نام ) ہے ۔ حدیث 52–53 اس باب کی تمام احادیث ❮ پچھلا باب اگلا باب ❯