مختصر صحيح بخاري
— توحید کی ( اتباع ) کے بیان میں
باب: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا انبیاء علیہ السلام سے کلام کرنے کا بیان ۔
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے دوسری ایک روایت میں مروی ہے` ( کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” پھر میں چوتھی مرتبہ آؤں گا اور وہی محامد اور تعریفیں بجا لاؤں گا اور پھر سجدہ میں گر پڑوں گا ۔ حکم ہو گا کہ اے محمد ! سر اٹھاؤ اور کہو ( جو کہو گے ) سنا جائے گا اور مانگو ( جو مانگو ) دیا جائے گا اور شفاعت کرو قبول ہو گی ۔ میں کہوں گا کہ اے پروردگار ! تو مجھ کو ان لوگوں کے لیے حکم دے جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ ( اللہ کے سوا کسی کی بندگی و اطاعت نہیں کروں گا ) کہا ہے ۔ اللہ فرمائے گا کہ قسم ہے مجھ کو اپنی عزت و جلال اور کبریائی و عظمت کی میں ان لوگوں کو دوزخ سے نکالوں گا جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہا ہے ۔