مختصر صحيح بخاري
— توحید کی ( اتباع ) کے بیان میں
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو بدل دیں “ ( سورۃ الفتح : 15 ) ۔
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے : ” جب بندہ گناہ کو پہنچتا ہے اور بعض دفعہ فرمایا : ” جب گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے پروردگار ! میں نے گناہ کیا ہے اور بعض دفعہ فرمایا ( کہتا ہے کہ ) میں گناہ کو پہنچا ہوں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ ( کوئی ) اس کا رب ہے جو اس کے گناہ معاف کرتا ہے اور اس سے مؤاخذہ کرتا ہے ( جس کے خوف سے وہ پناہ مانگ رہا ہے ) میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا پھر ( تھوڑے دن ) ٹھہر کر بندہ اور گناہ کو پہنچتا ہے یا گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے پروردگار ! میں نے گناہ کیا ہے یا میں گناہ کو پہنچا ہوں تو اس کو معاف فرما دے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا پروردگار ہے جو گناہ کو معاف کرتا ہے اور اس کا مؤاخذہ بھی کرتا ہے ، میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا ۔ پھر ( تھوڑے دن ) ٹھہر کر وہ پھر گناہ کرتا ہے یا فرمایا : ” گناہ کو پہنچتا ہے اور کہتا ہے کہ اے پروردگار ! میں گناہ کو پہنچا ہوں یا میں نے گناہ کیا ہے پس تو اس کو معاف فرما دے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ یقیناً اس کا رب ہے جو گناہ کو معاف کرتا ہے اور مؤاخذہ کرتا ہے ، میں نے اپنے بندے کو معاف فرما دیا پس وہ جو چاہے کرے ۔ “ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) تین مرتبہ فرمایا ۔