مختصر صحيح بخاري
— تفسیر قرآن ۔ تفسیر سورۃ الدخان
باب: اللہ تعالیٰ کا قول ” ( کافر کہیں گے ) اے ہمارے رب ! ہم سے اس عذاب کو دور کر دے ، ہم ایمان لاتے ہیں “ ۔
´سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی اس روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ` انھوں ( کافروں ) نے کہا ” اے پروردگار ! ہم سے اس عذاب کو دور کر دے ، ہم ایمان لاتے ہیں ۔ “ ( الدخان : 12 ) تو ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے ) کہا گیا کہ اگر ہم اس عذاب کو ان پر سے ہٹا لیں گے تو یہ پھر وہی ( کفر و شرک ) کریں گے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان پر سے قحط کے دور ہونے کی ) دعا کی ( اور وہ قبول ہو گئی ) لیکن وہ پھر وہی ( کفر ) کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بدر کے دن اچھی طرح بدلہ لے لیا ۔