حدیث نمبر: 1688
ابوعبداللہ آصف

´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں سو رہا تھا کہ اسی حالت میں زمین کے خزانے میرے پاس لائے گئے اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دیے گئے ۔ مجھے یہ برا معلوم ہوا تو مجھے بذریعہ وحی کہا گیا کہ میں انھیں پھونک ماروں ۔ تب میں نے انھیں پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے ۔ میں نے اس کی تعبیر یہ سمجھی کہ ان کنگنوں سے وہ دونوں کذاب مراد ہیں جن کے درمیان میں ، میں ہوں ، وہ دونوں صاحب صنعاء ( یعنی اسودعنسی ) اور یمامہ والا ( مسیلمہ کذاب ) ہیں ۔ “

حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1688