´سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو جمع کر کے فرمایا : ” قریش کے لوگ ابھی دور جاہلیت اور قتل و قید کی مصیبتوں سے نکلے ہیں ، تو میں چاہتا ہوں کہ انھیں کچھ مال غنیمت دے کر ان کی مدد اور دل جوئی کر دوں ۔ تو کیا تم خوش نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں کی طرف لے جاؤ ؟ انھوں نے جواب دیا ” جی ہاں ہم راضی ہیں ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اور لوگ وادی کے اندر چلیں اور انصار پہاڑ کی گھاٹی پر چلیں تو میں بھی انصار کی وادی یا گھاٹی اختیار کروں گا ۔ “
حدیث نمبر: 1673
ابوعبداللہ آصف