حدیث نمبر: 1669
ابوعبداللہ آصف

´سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا اور ان کا کچھ نقصان نہ کیا ( بلکہ الٹا مسلمانوں کا نقصان ہوا ) آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم انشاءاللہ ( اب ) مدینہ کو لوٹ چلیں گے ۔ “ صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ شاق معلوم ہوا اور کہنے لگے کہ ہم بغیر فتح کیونکر لوٹ چلیں ؟ “ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم لوٹ جائیں گے ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اچھا ) کل صبح لڑو ۔ “ صبح ہوئی تو وہ سب لڑے اور زخمی ہو گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کل انشاءاللہ ہم واپس چلیں گے ۔ “ اس وقت انھیں یہ بات اچھی معلوم ہوئی ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے ۔

حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1669