حدیث نمبر: 1658
ابوعبداللہ آصف

´سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ حرقہ کی طرف بھیجا ، بوقت صبح ہم نے اس قوم پر حملہ کیا اور ان کو شکست دی ۔ پھر میں اور ایک انصاری مرد کفار کے ایک شخص سے ملے جب ہم نے اسے گھیر لیا تو اس نے کہا لا الہٰ الا اللہ ۔ انصاری رک گیا اور میں نے اسے نیزہ سے مار ڈالا ۔ جب ہم مدینہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” اسامہ ! کیا تو نے اسے لا الہٰ الا اللہ کہنے کے بعد مار ڈالا ؟ “ میں نے عرض کی کہ وہ تو پناہ کے واسطے کہہ رہا تھا ( سچے دل سے نہیں کہہ رہا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم باربار یہی کہتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے یہ خواہش کی کہ کاش ! میں اس دن سے پہلے اسلام نہ لایا ہوتا ( بلکہ اس کے بعد لاتا تاکہ میرا یہ گناہ معاف ہو جاتا ) ۔

حوالہ حدیث مختصر صحيح بخاري / حدیث: 1658