´سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں چڑھائی کی تو ( راستے میں ) لوگ ایک بلند جگہ پر چڑھے اور پکار پکار کر اللہ اکبر اللہ اکبر ، لا الہٰ الا اللہ کہنے لگے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے نفسوں پر نرمی کرو ( اور چیخو نہیں ) کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے ہو ، بلکہ تم سننے والے کو اور جو بہت نزدیک ہے اسے پکارتے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے ۔ “ ( اور اس وقت ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے ہی تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لاحول ولا قوّۃ الا بااﷲ پڑھتے ہوئے سنا پھر فرمایا : ” اے عبداللہ بن قیس ! ( یہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا اصل نام ہے ) ۔ “ میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ ! ( کہ اے اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تجھے ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ؟ “ میں نے عرض کی کہ ضرور یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( وہ کلمہ ) لاحول ولا قوّۃ الّا بااﷲ ( ہے ) ۔
حدیث نمبر: 1646
ابوعبداللہ آصف