´ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( آخری مرض میں بیماری سے ) بوجھل ہو گئے اور آپ کا مرض سخت ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت مانگی کہ میرے ( عائشہ کے ) گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمارداری کی جائے تو سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( میرے گھر آنے کے لیے ) دو آدمیوں کے درمیان ( سہارا لے کر ) نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں ( مبارک ) زمین پر گھسٹتے ہوئے جا رہے تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ایک اور شخص ( حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ) نکلے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں آ چکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض ( اور بھی ) زیادہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سات مشکیں جن کے بند نہ کھولے گئے ہوں میرے اوپر ڈال دو تاکہ میں لوگوں کو کچھ وصیت کروں ( چنانچہ اس کی تعمیل کی گئی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخضب میں بٹھا دیے گئے ۔ اس کے بعد ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر پانی ڈالنے لگے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ ( بس اب تم تعمیل حکم ) کر چکیں ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس باہر تشریف لے گئے ۔
حدیث نمبر: 150
ابوعبداللہ آصف