مختصر صحيح بخاري
— انبیاء کے حالات کے بیان میں
باب: اللہ تعالیٰ کا قول ” اس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کیجئیے جبکہ وہ اپنے گھر کے لوگوں سے علیحدہ ہو کر .... “ الآیۃ ۔ ( سورۃ مریم : 61 ) ۔
´سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے رات خواب میں خود کو کعبہ کے پاس دیکھا ( اور دیکھا کہ ) ایک شخص بہت اچھا گندمی رنگ والا جس کے بال کندھوں تک ( کنگھی کی وجہ سے ) صاف سیدھے تھے ، اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ، وہ اپنے دونوں ہاتھ دو شخصوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے کعبے کا طواف کر رہا ہے ۔ میں نے کہا کہ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام ہیں ۔ پھر ان کے پیچھے میں نے ایک اور شخص کو دیکھا جو سخت گھونگھریالے بال اور داہنی آنکھ سے کانا تھا ، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ ان سب میں وہ عبدالعزیٰ بن قطن کے بہت مشابہ ہے ، ( جو جاہلیت کے دور میں مر گیا تھا ) وہ اپنے دونوں ہاتھ ایک شخص کے کندھوں پر رکھے کعبے کا طواف کر رہا ہے تو میں نے کہا کہ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ مسیح دجال ہے ۔ “