مختصر صحيح بخاري
— انبیاء کے حالات کے بیان میں
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اور اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا “ کا بیان ۔
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابراہیم علیہ السلام نے ( ساری عمر ) جھوٹ نہیں بولا سوائے تین دفعہ کے ۔ دو جھوٹ تو خالص اللہ کے لیے ۔ ایک تو ان کا ( بطور توریہ ) یہ کہنا کہ ” میں بیمار ہوں “ دوسرا یہ کہنا کہ ” ( میں نے انھیں نہیں توڑا ) بلکہ اس بڑے بت سے کیا ( توڑا ) ہے “ اور بیان کیا ( تیسرے یہ کہ ) ابراہیم علیہ السلام اور سارہ ( ان کی بیوی ) دونوں ( ایک سفر میں ) جا رہے تھے کہ ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں پہنچے تو اس ( بادشاہ ) سے کہا گیا کہ یہاں ایک مرد آیا ہے اور اس کے ساتھ ایک بہت خوبصورت عورت ہے تو اس ( بادشاہ ) نے ابراہیم علیہ السلام کو بلایا اور ان سے اس عورت کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : ” میری بہن ہے ۔ “ پھر ابراہیم علیہ السلام سارہ کے پاس آئے .... اور ( سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) باقی تمام حدیث بیان کی ۔ ( دیکھیئے حدیث مبارک : کتاب : خریدوفروخت کے بیان میں ۔ ۔ ۔ باب : حربی کا فر سے غلام خرید لینا یا کا فر لونڈی یا غلام کا ہبہ کر دینا یا آزاد کر دینا ۔ ۔ ۔ ) ( نوٹ : اس حدیث اور قرآن کی اس آیت میں کوئی ٹکراؤ نہیں جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو سچا کہا گیا ہے اوّلاً ۔ یہ ظاہراً جھوٹ ہیں حقیقتاً جھوٹ نہیں ۔ ثانیاً ۔ جھوٹ کی بھی متعدد صورتیں ہیں ۔ بعض صورتوں میں جھوٹ صرف مباح ہی نہیں بلکہ شرف کا سبب بنتا ہے جیسا کہ دو آدمیوں میں صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا ۔ )