مختصر صحيح بخاري
— انبیاء کے حالات کے بیان میں
باب: اللہ تعالیٰ کا قول ” یہ لوگ آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ پوچھتے ہیں تو کہہ دیجئیے کہ میں ان کا تھوڑا سا حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں ، ہم نے اسے زمین میں قوت عطا فرمائی تھی اور اسے ہر چیز کے سامان بھی عنایت کیے تھے “ ( کہف 83 ، 84 ) ۔
´ام المؤمنین زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے ان کے پاس گئے اور فرما رہے تھے : ” لا الہٰ الا اللہ ! عرب کی خرابی اس آفت سے ہونے والی ہے جو نزدیک آ پہنچی ، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے حلقہ کر کے بتلایا ۔ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے جب کہ نیک لوگ بھی ہم میں موجود ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں جب برائی زیادہ پھیل جائے ( تو نیک بد سب لپیٹ میں آ جاتے ہیں ) ۔