مختصر صحيح بخاري
— وضو کا بیان
باب: جس نے وضو کو ( فرض ) نہیں خیال کیا مگر صرف دونوں مخرج یعنی قبل اور دبر سے ( نکلنے والی چیز کے سبب ) ۔
حدیث نمبر: 140
ابوعبداللہ آصف
´سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کے پاس ( بلانے کو ) کوئی آدمی بھیجا تو وہ آئے ، اس حال میں کہ ان کے سر سے ( غسل کا ) پانی ٹپک رہا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شاید ہم نے تمہیں ( بلانے میں ) جلدی کی ؟ “ انھوں نے عرض کی کہ ہاں یا رسول اللہ ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب جلدی کی جائے یا ( اور کسی سبب سے ) انزال نہ ہو تو تمہارے اوپر وضو ( فرض ) ہے ( غسل فرض نہیں ) ۔ “ ( لیکن یہ حکم منسوخ ہے ) ۔