حدیث نمبر: 909
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ يُونُسَ الْقَصَّارُ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "يُحْشَرُ الأَنْبِيَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى الدَّوَابِّ لِيُوَافُوا مِنْ قُبُورِهِمُ الْمَحْشَرَ ، وَيُبْعَثُ صَالِحٌ عَلَيْهِ السَّلامُ عَلَى نَاقَتِهِ ، وَيُبْعَثُ ابْنَايَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى نَاقَتِي الْعَضْبَاءِ ، وَأُبْعَثُ عَلَى الْبُرَاقِ خَطْوُهَا عِنْدَ أَقْصَى طَرَفِهَا ، وَيُبْعَثُ بِلالٌ عَلَى نَاقَةٍ مِنْ نُوقِ الْجَنَّةِ ، فَيُنَادِي بِالأَذَانِ مَحْضًا ، وَبِالشَّهَادَةِ حَقًّا حَقًّا ، حَتَّى إِذَا قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، شَهِدَ لَهُ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ ، فَقُبِلَتْ مِمَّنْ قُبِلَتْ وَرُدَّتْ عَلَى مَنْ رُدَّتْ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، إِلا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ . تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو صَالِحٍ ، وَلا يُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن انبیاء چوپاؤں پر اکٹھے کیے جائیں گے تاکہ اپنی قبروں سے میدان حشر میں آئیں۔ صالح علیہ السلام اونٹنی پر سوار ہوں گے، میرے بیٹے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما میری اونٹنی عضباء پر جائیں گے، اور میں براق پر اٹھایا جاؤں گا جس کا ایک قدم اس کی نظر کی انتہا تک ہو گا، اور بلال جنت کی اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی پر ہو گا، وہ اذان خالص دے گا اور شہادت کے کلموں کا بھی سچا سچا اعلان کرے گا، جب «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» کہے گا تو اگلے پچھلے تمام مومن اس کے لیے شہادت دیں گے تو جس کے لیے قبول کی گئی اس کے لیے قبول کی گئی اور جس سے واپس کی گئی اس سے واپس کی جائے گی۔“