حدیث نمبر: 884
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ أَبِي عَامِرٍ السِّجِلِّينِيُّ ، بِقَرْيَةِ سِجِلِّينَ مِنْ كُورَةِ عَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : رَأَيْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ لِحْيَتُهُ بَيْضَاءُ وَرَأْسُهُ أَسْوَدُ ، فَقُلْتُ : يَا مَوْلايَ ، مَا لِرَأْسِكَ لا يَبْيَضُّ ؟ ، فَقَالَ : لا يَبْيَضُّ رَأْسِي أَبَدًا ، وَذَلِكَ أَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ "مَضَى وَأَنَا غُلامٌ أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَسَلَّمَ عَلَي الْغِلْمَانِ وَأَنَا فِيهِمْ ، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ السَّلامَ مِنْ بَيْنِ الْغِلْمَانِ ، فَدَعَانِي ، فَقَالَ لِي : مَا اسْمُكَ ؟ ، قُلْتُ : السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ النَّمِرِ ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيَّ ، وَقَالَ : بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ ، فَلا يَبْيَضُّ مَوْضِعُ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَطَاءٍ ، إِلا عِكْرِمَةُ ، تَفَرَّدَ بِهِ النَّضْرُ ، وَلا يُرْوَى عَنِ السَّائِبِ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے غلام عطا کہتے ہیں: میں نے سائب بن یزید کی داڑھی سفید دیکھی جب کہ ان کا سر سفید نہیں ہوا، تو میں نے ان سے کہا: اے میرے مولیٰ! کیا وجہ ہے کہ آپ کا سر سفید نہیں ہوا؟ انہوں نے کہا: کبھی بھی سفید نہیں ہو گا، اس لیے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کو سلام کہا، تو بچوں میں سے میں نے سلام کا جواب دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”تیرا کیا نام ہے؟“ میں نے کہا: سائب بن یزید بن اخت النمر، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت کرے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی جگہ کبھی سفید نہیں ہوتی۔