حدیث نمبر: 12
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الوَسَاوِينِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا زَهْدَمٌ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، وَهُوَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ ، فَقَالَ : هَلُمَّ فَكُلْ ، فَقُلْتُ : إِنِّي حَلَفْتُ لا آكُلُ لَحْمَ الدَّجَاجِ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : كُلْ ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ " يَأْكُلُ مِنْهُ ، وَسَأُنَبِّئُكَ عَنْ يَمِينِكَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَصْحَابِي ، وَأَصْحَابٌ لِي ، نَسْتَحْمِلُهُ ، فَحَلَفَ أَنْ لا يَحْمِلَنَا ، وَمَا عِنْدَهُ حُمْلانُ ، فَوَاللَّهِ مَا بَرَحْنَا حَتَّى أَتَتْهُ قَلائِصُ غُرُّ الذُّرَى ، فَأَمَرَ لَنَا بِحُمْلانَ ، فَلَمَّا خَرَجْنَا ذَكَرْنَا يَمِينَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا رَدَّكُمْ ؟ ، قُلْنَا : ذَكَرْنَا يَمِينَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَخَشِينَا أَنْ تَكُونَ نَسِيتَهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا نَسِيتُهَا ، وَلَكِنْ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَطَرٍ ، إِلا الصَّعْقُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ہدم جرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو وہ مرغی کھا رہے تھے، کہنے لگے: آؤ کھاؤ۔ میں نے کہا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ مرغی نہیں کھاؤں گا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کھاتے دیکھا ہے اور میں تجھے تیری قسم کے متعلق بھی بتاؤں گا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مانگ رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا لی کہ میں تم کو سواری نہیں دوں گا اور نہ ہی میرے پاس کوئی سواری ہے۔ پس اللہ کی قسم، ہم زیادہ دیر نہیں ٹھہرے کہ کچھ سفید چوٹیوں والی اونٹنیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اونٹنیاں دینے کا حکم دیا۔ جب ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یاد آئی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کون سی چیز واپس لائی ہے؟“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں آپ کی قسم یاد آ گئی اور ہم ڈر گئے کہ کہیں آپ بھول نہ گئے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں بھولا نہیں ہوں۔ مگر جو شخص کسی چیز پر قسم کھا لے، پھر اس کے مقابل دوسری کو بہتر سمجھے تو وہ بہتر کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔“