معجم صغير للطبراني
كتاب الرقاق— دلوں کو نرم کرنے کا بیان
باب: قوم کے کمزور و ضعیف لوگوں کی اہمیت کا بیان
حدیث نمبر: 993
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوَارِبِيُّ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " الرَّجُلُ يَكُونُ حَامِيَةَ الْقَوْمِ ، وَيَدْفَعُ عَنْ أَصْحَابِهِ ، أَيَكُونُ نَصِيبُهُ مثل نَصِيبِ غَيْرِهِ ؟ ، فَقَالَ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ابْنَ أُمِّ سَعْدٍ ، وَهَلْ تُرْزَقُونَ ، وَتُنْصَرُونَ إِلا بِضُعَفَائِكُمْ ؟ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، إِلا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، تَفَرَّدَ بِهِ مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی اپنی قوم کی حمایت کرتا ہے اور اپنے ساتھیوں کا دفاع کرتا ہے، کیا اسے بھی اور لوگوں کی طرح حصہ ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سعد کے بیٹے! تیری ماں تجھے گم پائے، تم تو اپنے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیے جاتے ہو اور مدد کیے جاتے ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2896 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2896. حضرت مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میرے والد بزرگوار حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کا خیال تھا کہ انھیں دوسرے (بہت سے) صحابہ کرام ؓ پر برتری حاصل ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’تمہاری جو کچھ مدد کی جاتی ہے اور تمھیں جو رزق دیا جاتا ہے وہ تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2896]
حدیث حاشیہ: قال ابن بطال تأویله أن الضعفاء أشد إخلاصا في الدعاء وأکثر خشوعا في العبادة لخلاء قلوبھم عن التعلق بزخرف الدنیا (فتح)
یعنی ضعفاء دعا کرتے وقت اخلاص میں بہت سخت ہوتے ہیں اور عبادت میں ان کا خشوع زیادہ ہوتا ہے اور ان کے دل دنیاوی زیب و زینت سے پاک ہوتے ہیں۔
اس لئے ضعیف لوگوں سے دعا کرانا بہت ہی موجب برکت ہے۔
یعنی ضعفاء دعا کرتے وقت اخلاص میں بہت سخت ہوتے ہیں اور عبادت میں ان کا خشوع زیادہ ہوتا ہے اور ان کے دل دنیاوی زیب و زینت سے پاک ہوتے ہیں۔
اس لئے ضعیف لوگوں سے دعا کرانا بہت ہی موجب برکت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2896 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2896 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2896. حضرت مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ میرے والد بزرگوار حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کا خیال تھا کہ انھیں دوسرے (بہت سے) صحابہ کرام ؓ پر برتری حاصل ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’تمہاری جو کچھ مدد کی جاتی ہے اور تمھیں جو رزق دیا جاتا ہے وہ تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2896]
حدیث حاشیہ:
1۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو اپنی دولت مندی،شجاعت اور تیراندازی میں مہارت کی وجہ سے دل میں خیال آیا کہ وہ دوسروں سے برترہیں تو رسول اللہ ﷺنے انھیں عاجزی اور تواضع اختیار کرنے کی ترغیب دی اور انھیں بتایا کہ انھی نیک فطرت اور پریشان حال لوگوں کی دعاؤں سے تمھیں مدد ملتی ہے اور انھی کی برکت سے تمھیں رزق میسر آتاہے کیونکہ ان کی عبادت میں اخلاص اور ان کی دعاؤں میں خشوع ہوتاہے، نیز دنیاوی زیب وزینت سے ان کے دل خالی ہوتے ہیں۔
2۔
امام بخاری ؒنے ثابت کیا ہے کہ ایک مجاہد اگراپنی بہادری کی وجہ سے اللہ کے ہاں مرتبہ حاصل کرتا ہے توایک کمزور و ناتواں اپنی مسکینی اور عاجزی کی بنا پراللہ کے ہاں مقام بنالیتا ہے۔
غالباً اسی وجہ سے میدان جنگ میں اترنے والےتمام مجاہدین مال غنیمت میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
بہادراپنی بہادری کی وجہ سے اور کمزور اپنی مخلصانہ دعاؤں کی وجہ سے،اس لیے میدان جنگ میں کمزور لوگوں سے کامیابی کی دعا کرانا بہت ہی خیر و برکت کاباعث ہے۔
1۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو اپنی دولت مندی،شجاعت اور تیراندازی میں مہارت کی وجہ سے دل میں خیال آیا کہ وہ دوسروں سے برترہیں تو رسول اللہ ﷺنے انھیں عاجزی اور تواضع اختیار کرنے کی ترغیب دی اور انھیں بتایا کہ انھی نیک فطرت اور پریشان حال لوگوں کی دعاؤں سے تمھیں مدد ملتی ہے اور انھی کی برکت سے تمھیں رزق میسر آتاہے کیونکہ ان کی عبادت میں اخلاص اور ان کی دعاؤں میں خشوع ہوتاہے، نیز دنیاوی زیب وزینت سے ان کے دل خالی ہوتے ہیں۔
2۔
امام بخاری ؒنے ثابت کیا ہے کہ ایک مجاہد اگراپنی بہادری کی وجہ سے اللہ کے ہاں مرتبہ حاصل کرتا ہے توایک کمزور و ناتواں اپنی مسکینی اور عاجزی کی بنا پراللہ کے ہاں مقام بنالیتا ہے۔
غالباً اسی وجہ سے میدان جنگ میں اترنے والےتمام مجاہدین مال غنیمت میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
بہادراپنی بہادری کی وجہ سے اور کمزور اپنی مخلصانہ دعاؤں کی وجہ سے،اس لیے میدان جنگ میں کمزور لوگوں سے کامیابی کی دعا کرانا بہت ہی خیر و برکت کاباعث ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2896 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3180 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کمزور آدمی سے مدد چاہنے کا بیان۔`
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہیں خیال ہوا کہ انہیں اپنے سوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے ۱؎، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، صلاۃ اور اخلاص کی بدولت فرماتا ہے “ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3180]
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہیں خیال ہوا کہ انہیں اپنے سوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے ۱؎، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، صلاۃ اور اخلاص کی بدولت فرماتا ہے “ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3180]
اردو حاشہ: 1) ’’فضیلت حاصل ہے‘‘ کیونکہ وہ اولین مسلما نوں میں سے تھے۔ وہ اپنے آپ کو ثُلُثُ الْأِسْلاَم (اسلام کا تیسرا حصہ) کہتے تھے‘ یعنی وہ تیسرے نمبر پر مسلمان ہوئے۔ (2)اس حدیث میں ضعیف سے مراد وہ نیک بزرگ لوگ ہیں جو جنگ میں حصہ لینے کی استطاعت نہیں رکھتے‘ جسمانی طور پر معذور یا ضعیف ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کی دعائیںمسلمانو ں کی فتح کا موجب بنتی ہیں‘ لہٰذا انہیں نکمے‘ بے کاریا حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3180 سے ماخوذ ہے۔