حدیث نمبر: 985
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّفَّارُ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " مَا نَدِمْتُ عَلَى شَيْءٍ مَا نَدِمْتُ عَلَى أَنِّي لَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الرِّيحِ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقُلْتُ : قَدْ سَأَلْتُهُ عَنْهَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرِّيحُ مِمَّ هِيَ ؟ ، فَقَالَ : مِنْ رُوحِ اللَّهِ يَبْعَثُهَا بِالرَّحْمَةِ ، وَيَبْعَثُهَا بِالْعَذَابِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شِبْلٍ ، إِلا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُهُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اتنا نادم کسی بات پر نہیں ہوا جتنا نادم اس بات پر ہوا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا کے متعلق کچھ نہ پوچھا، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تھا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہوا کس چیز سے بنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی خوشبو سے، جس کو اللہ تعالیٰ رحمت کے ساتھ بھی بھیجتا ہے اور عذاب کے ساتھ بھی۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الرقاق / حدیث: 985
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، أخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 5097، قال الشيخ الألباني: صحيح ، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3727، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1007، 5732، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7864، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 10699، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6557، 6558، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7531، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2223، والطبراني فى «الصغير» برقم: 26، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20004، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 26836»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 5097 | سنن ابن ماجه: 3727

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5097 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جب آندھی آئے تو کیا پڑھے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «ریح» (ہوا) اللہ کی رحمت میں سے ہے (سلمہ کی روایت میں «من روح الله‏‏» ہے)، کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، تو جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو، اللہ سے اس کی بھلائی مانگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہو۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5097]
فوائد ومسائل:
صحیح مسلم میں اس دُعا کے الفاظ یوں ہیں۔
(اللهم إني أسألُكَ خيرَها وخيرَ ما فيها وخيرَ ما أُرسِلَت به و أعوذُ بِك من شرِّها وشرِّ ما فيها وشرِّ ما أُرسِلَتْ به) (صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 899)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5097 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3727 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ہوا کو برا بھلا کہنے کی ممانعت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہوا کو برا نہ کہو، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں سے ہے، وہ رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3727]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  ہوا اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کے بغیر انسان کی زندگی ممکن نہیں لیکن یہی ہوا اللہ کے حکم سے آندھی اور طوفان بن کر تباہی کا باعث بھی بن جاتی ہے۔

(2)
رحمت اور عذاب اللہ کے اختیار میں ہے، اس لیے اسی سے امید اور خوف رکھنا چاہیے۔

(3)
تیز ہوا اور آندھی کے موقع پر رسول اللہ اس طرح دعا فرماتے تھے۔ (اللهم إني أسألك خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به) (صحيح مسلم، صلاة الاستسقاء، باب العوذ عند رؤية الريح والغيم، والفرح بالمطر، حديث: 899)
’’یا اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی، جو کچھ اس میں ہے اس کی بھلائی اور جو کچھ اسے دے کر بھیجا گیا ہے اس کی بھلائی مانگتا ہوں۔
اور میں اس کی برائی سے، جو کچھ اس میں ہے اس کی برائی سے، اور جو کچھ دے کر اسے بھیجا گیا ہے اس کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘
جس طرح انسانوں کو گالی دینا گناہ ہے، اسی طرح جانوروں اور بے جان مخلوق کو گالی دینا برا کام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3727 سے ماخوذ ہے۔