معجم صغير للطبراني
كتاب الأدعية و الأذكار— اذکار کا بیان
باب: اللہ تعالیٰ سے خیر اور پناہ مانگنے کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 984
حَدَّثَتْنَا فَاطِمَةُ بِنْتُ إِسْحَاقَ بْنِ وَهْبٍ الْعَلافِ الْوَاسِطِيِّ ، بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَبِّرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا بِدُعَاءٍ لَمْ يَسْمَعِ النَّاسُ مِثْلَهُ ، وَاسْتَعَاذَ اسْتِعَاذَةً لَمْ يَسْمَعِ النَّاسُ مِثْلَهَا ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ : كَيْفَ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ نَدْعُوَ بِمِثْلِ مَا دَعَوْتَ بِهِ ، وَأَنْ نَسْتَعِيذَ كَمَا اسْتَعَذْتَ ؟ فَقَالَ : قُولُوا : اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ بِمَا سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَنَسْتَعِيذُ مِمَّا اسْتَعَاذَ مِنْهُ مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، إِلا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، وَلا عَنْهُ إِلا ابْنُ مُحَبِّرٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے پھر ایسی دعا کی جیسی دعا لوگوں نے پہلے نہیں سنی تھی، اور ایسی پناہ اللہ تعالیٰ سے مانگی جیسی لوگوں نے پہلے کبھی نہیں سنی، تو بعض لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اگر ہم ایسی دعا کریں اور اس طرح استعاذہ بھی کریں تو وہ کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یوں کہو: «اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ بِمَا سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَنَسْتَعِيذُ مِمَّا اسْتَعَاذَ مِنْهُ مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ» ”اے اللہ! میں تجھ سے وہ چیز مانگتا ہوں جو تجھ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی جو تیرے بندے اور رسول ہیں، اور اے اللہ! میں تجھ سے اس چیز سے پناہ چاہتا ہوں جس سے تیرے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی۔“
حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الأدعية و الأذكار / حدیث: 984
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3521
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3521 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ساری دعائیں کیں، مگر مجھے ان میں سے کوئی دعا یاد نہ رہی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دعائیں تو آپ نے بہت سی کیں مگر میں کوئی دعا یاد نہ رکھ سکا، آپ نے فرمایا: ” کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتا دوں جو ان سب چیزوں (دعاؤں) کی جامع ہو، کہو: «اللهم إنا نسألك من خير ما سألك منه نبيك محمد صلى الله عليه وسلم ونعوذ بك من شر ما استعاذ منه نبيك محمد صلى الله عليه وسلم وأنت المستعان وعليك البلاغ ولا حول ولا قوة إلا بالله» ” اے اللہ! ہم تجھ سے وہ بھلائی (خیر) مانگتے ہیں جو تجھ سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3521]
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ساری دعائیں کیں، مگر مجھے ان میں سے کوئی دعا یاد نہ رہی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دعائیں تو آپ نے بہت سی کیں مگر میں کوئی دعا یاد نہ رکھ سکا، آپ نے فرمایا: ” کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتا دوں جو ان سب چیزوں (دعاؤں) کی جامع ہو، کہو: «اللهم إنا نسألك من خير ما سألك منه نبيك محمد صلى الله عليه وسلم ونعوذ بك من شر ما استعاذ منه نبيك محمد صلى الله عليه وسلم وأنت المستعان وعليك البلاغ ولا حول ولا قوة إلا بالله» ” اے اللہ! ہم تجھ سے وہ بھلائی (خیر) مانگتے ہیں جو تجھ سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3521]
اردو حاشہ:
1؎: اے اللہ! ہم تجھ سے وہ بھلائی (خیر) مانگتے ہیں جو تجھ سے تیرے نبی محمد ﷺ نے مانگی ہے اور ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس شر (برائی) سے جس سے تیرے نبی محمد ﷺ نے پناہ مانگی ہے، توہی مدد گارہے، اور تیرے ہی اختیار میں ہے (خیر وشر کا) پہچاننا، اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور عبادت کرنے کی قوت اللہ کے سہارے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
نوٹ:
(سندمیں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)
1؎: اے اللہ! ہم تجھ سے وہ بھلائی (خیر) مانگتے ہیں جو تجھ سے تیرے نبی محمد ﷺ نے مانگی ہے اور ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس شر (برائی) سے جس سے تیرے نبی محمد ﷺ نے پناہ مانگی ہے، توہی مدد گارہے، اور تیرے ہی اختیار میں ہے (خیر وشر کا) پہچاننا، اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور عبادت کرنے کی قوت اللہ کے سہارے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
نوٹ:
(سندمیں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3521 سے ماخوذ ہے۔